رکن اسمبلی کی ہلاکت پر سوگ، نظامِ زندگی معطل

votersکراچی میں رکنِ صوبائی اسمبلی منظر امام کی ہلاکت کے خلاف ایم کیو ایم کی اپیل پر تین روزہ سوگ کے آغاز پر شہر میں معمولاتِ زندگی معطل ہیں۔

منظر امام اور ان کے تین محافظوں کو کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے شدت پسندوں نے جمعرات کی دوپہر اورنگی ٹاؤن کی حدود میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے ان کی ہلاکت پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا تھا۔

شہر میں فائرنگ اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات کے بعد جمعرات کی رات کو ہی ٹرانسپورٹ اور نجی سکول بند رکھنے کا اعلان کر دیا گیا تھا۔

سوگ کی وجہ سے جمعہ کو کراچی میں تمام بڑے کاروباری مراکز بند ہیں اور سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے۔ ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے دفاتر میں بھی حاضری معمول سے کہیں کم ہے۔

غیر اعلانیہ ہڑتال کے موقع پر سی این جی سٹیشنز اور پیٹرول پمپوں کو قناتوں کی مدد سے بند کیا گیا ہے اور ایندھن کی عدم دستیابی کے باعث پبلک ٹرانسپورٹ کے ساتھ نجی گاڑیاں بھی کم ہی نظر آرہی ہیں۔

مقتول منظر امام کی نمازِ جنازہ جمعہ کی دوپہر ادا کر دی گئی ہے اور تاجر تنظیمیں پرامید ہیں کہ اس کے بعد کاروبار اور تجارتی مراکز کھل جائیں گے۔

جمعرات کو بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کراچی تاجر اتحاد کے رہنما عتیق میر نے امید ظاہر کی تھی کہ انہیں منظر امام کی تدفین کے بعد کاروبار کھولنے کی اجازت دی جائےگی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’ آج پانچواں روز تھا کہ تمام مراکز مکمل طور پر کھل نہیں پائے تھے، ہم کل نمازِ جنازہ تک کاروبار بند رکھیں گے، امید کرتے ہیں کہ ہمیں باقی وقت کاروبار کھولنے دیا جائے گا۔‘

ادھر متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے ایم کیوایم کے کارکنان سے اپیل کی ہے کہ کہ وہ دہشت گردی کے اس واقعے پر ہرگز مشتعل نہ ہوں اور امن تباہ کرنے کی سازش کو ناکام بنا دیں۔

ایک اعلامیے میں انہوں نے کہا ہے کہ منظر امام کا قتل ملک بھر میں جاری دہشت گردی کا تسلسل ہے جس نے زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کی جان و مال کو عدم تحفظ کا شکار بنا رکھا ہے۔

Leave a Reply